sasatsafhatanz
kahaniataleemkitabiepoet and poetrysms

Thursday, December 5, 2013

پہیلیاں


مسکرایے تو سہی



بلبل کا بچہ




کھاتا تھا کھچڑی
پیتا تھا پانی
بلبل کا بچہ
گاتا تھا گانے
میرے سرہانے
بلبل کا بچہ
ایک دن اکیلا بیٹھا ہوا تھا
بلبل کا بچہ
میں نے اڑایا 
واپس نہ ایا
بلبل کا بچہ

                                                        ایڈمن محمد فاران خان

Tuesday, December 3, 2013

خطرناک دیو اور شہزادہ


Sunday, December 1, 2013

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی بیٹی فرماتی

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی بیٹی فرماتی ہیں کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ [ اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کر و ۔ ( الحجرات ۔ 2 )]
تو میرے والد گھر کے دروازے بند کرکے اندر بیٹھ گئے اور رونے لگے جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ پایا تو بلا کر گھر بیٹھ رہنے کی وجہ پوچھی انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری آواز [ طبعی طورپر ] بلند ہے میں ڈرتا ہوں کہ میرے اعمال ضائع نہ ہو جائیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان میں سے نہیں ہیں بلکہ آپ خیر والی زندگی جئیں گے اور خیر والی موت مریں گے ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ : [ کہ اللہ تعالی کسی اترانے والے خودپسند کو پسند نہیں کرتا ۔ ( لقمان ۔ 18 ) ]
تو میرے والد نے پھر دروازہ بند کر دیا گھر میں بیٹھ گئے اور روتے رہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہ پایا تو انہیں بلوایا اور وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تو خوبصورتی کو پسند کر تا ہوں اور اپنی قوم کی قیادت کو بھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان میں سے نہیں [ جن کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے ] بلکہ آپ تو بڑی پسندیدہ زندگی گزاریں گے اور شہادت کی موت پاکر جنت میں داخل ہوں گے۔ جنگ یمامہ کے دن جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں نے مسیلمہ کذاب پر حملہ کیا تو ابتداء میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اس وقت حضرت ثابت بن قیس اور حضرت سالم رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو اس طرح نہیں لڑتے تھے۔ پھر دونوں حضرات نے اپنے لیے ایک ایک گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہوکر ڈت کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے اس دن حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک قیمتی زرہ پہن رکھی تھی ان کی شہادت کے بعد ایک مسلمان نے وہ زرہ اٹھالی ۔ اگلے دن ایک مسلمان نے خواب میں دیکھاکہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ اسے فرما رہے ہیں میں تمھیں ایک وصیت کر رہا ہوں تم اسے خیال سمجھ کر ضائع نہ کر دینا میں جب کل شہید ہوا تو ایک مسلمان میرے پاس سے گزرا اور اس نے میری زرہ اٹھالی وہ شخص لوگوں میں سب سے دور جگہ پر رہتا ہے اور اس کے خیمے کے پاس ایک گھوڑا رسی میں بندھا ہوا کود رہا ہے اور اس نے میری زرہ کے اوپر ایک بڑی ہانڈی رکھ دی ہے اور اس ہانڈی کے اوپر اونٹ کا کجاوہ رکھا ہوا ہے تم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ کسی کو بھجوا کر میری زرہ اس شخص سے لے لیں پھر جب تم مدینہ منورہ جانا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ [ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ] سے کہنا کہ میرے زمے اتنا اتنا قرضہ ہے اور میرے فلاں فلاں غلام آزاد ہیں [ پھر اس خواب دیکھنے والے کو فرمایا ] اور تم اسے جھوٹا خواب سمجھ کر بھلا مت دینا ۔ چنانچہ [ صبح ] وہ شخص حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان تک پیغام پہنچایا تو انہوں نے آدمی بھیج کر زرہ وصول فرمالی ۔ پھر مدینہ پہنچ کر اس شخص نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پورا خواب سنایا تو انہوں نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی وصیت کو جاری فرما دیا ۔ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے مرنے کے بعد وصیت کی ہو اور اس کی وصیت کو پورا کیا گیا ہو سوائے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے ۔ ( المستدرک )

یہ تحریر فیسبک سے لی گئی ہے
                                  ایڈمن محمد فاران خان             

دین اسلام چار شادیوں کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟

دین اسلام چار شادیوں کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟

اگر تمھیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو ِدو دو تین تین چار چار سے ۔لیکن اگر تمھیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہوتو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی ۔۔۔یہ ذیادہ قریب ہے۔(ایسا کرنے سے ناانصافی اور(ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔۔۔

اس آیت کی تفسیر حضرت عائشہ سے اس طرح مروی ہے۔۔کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کر لیتالیکن اس کو دوسری عورتوں کی طرح ان کا پورا حق مہر نہ دیتا۔۔۔اللہ تعالی نے اس اس ظلم سے روکا کہ اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصافنہیں کرسکتےتو تم ان سے نکاح مت کرو۔تمہارے لئے دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا راستہ کھلا ہے۔۔صحیح بخاری ۔کتاب تفسیر۔۔۔۔۔

بلکہ ایک کی بجائے دو سے تین سے حتی کہ چار سے تم نکاح کر سکتے ہو۔۔بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو۔ورنہ ایک سے ہی نکاح کرو
یا اس کی بجائے لونڈی پر گذارا کرو۔۔۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان مرد (اگر وہ ضرورت مند ہو(تو چار عورتیں بیک وقت اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔۔۔۔لیکن اس سے ذیادہ نہیں۔۔۔۔جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی مزید صراحت اور تحدید کردی گئی ہے۔نبی کریم نے جو چار شادیاں
کیں وہ آپ کے خصائص میں سے ہے جس پر امتی کے لئے عمل کرنا جائز نہیں۔۔ابن کثیر۔۔
ایک ہی عورت سے شادی کرنے میں عافیت ہے،۔کیونکہ ایک سے ذیادہ بیویاں رکھنے کی صورت میں انصاف کا اہتمام بہت مشکل ہے۔جس کی طرف قلبی میلان ذیادہ ہوگا۔ضروریات ذندگی کی فراہمی میں ذیادہ توجہ بھی اس کی طرف ہوگی۔۔۔اور دوسری یا تیسری شادی آج کے دور میں وہی کرتا ہے جس کا قلبی میلان پہلی والی سے کم ہوجائے۔۔۔یوں بیویوں کے درمیان وہ انصاف کرنے میں ناکام رہے گا۔۔۔اور اللہ کے ہاں مجرم قرار پائے گا۔۔۔قرآن نے اس حقیقت کو دوسرے مقام پر نہایت بلیغانہ انداذ میں اس طرح بیان فرمایا۔۔۔ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساءولوا حرصتم فلا تمیلو کل المیل فتذروھا کالمعلقہ۔۔اور ہرگز اس بات کی طاقت نہ رکھو گے کہ بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو ۔اگرچہ تم حرص رکھو۔۔۔(اس لئے یہ تو ضرور کرو(کہ ایک طرف نہ جھک جاؤ۔کہ دوسری بیویوں کو بیچ ادھڑ میں لٹکا رکھو۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک سے ذیادہ شادی ناگذیر ضرورت کے بغیر کرنا نامناسب اور نہایت خطرناک ہے۔۔۔
دین اسلام ایک مکمل ظابطہ حیات ہے اور اسلام میں زندگی کے تمام پہلووں کو بڑی تفصیل اور مروجہ انداز سے بیان کرتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں غلطی کی گنجائش تو ہوسکتی ہے یا پھر فرد واحد کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط تو شامل ہوسکتے ہیں پر دین اسلام میں ہر انسان کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے ۔اسی طرح ایک اہم بات کے جس پر دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ دین اسلام مسلمان کو چار شادیاں کرنے کی اجازت کیوں دیتا ہے۔ اس کو کثیرالازدواجی زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دیتا ہے۔

سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ دنیا کا کوئی مذہب یہ نہیں کہتا کہ آپ صرف ایک شادی کریں اس حوالے سے قران پاک کے ارشاد کو دیکھتے ہیں ’’اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے‘‘

قران پاک کے اس ارشاد سے ہم صاف کہہ سکتے ہیں کہ اسلام مسلمان کو چار شادیوں کی اجازت تو دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ احکامات بھی بتا تا ہےکہ اگر انسان کی استطاعت ہے کہ وہ چار بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کر سکتا ہے اور چاروں کو ایک جیسے حقوق دے سکتا ہے تو اسلام اس کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے لیکن اگر انصاف نہیں کرسکتا تو ایک ہی شادی اس کے لیے بہتر ہے ۔

اس حوالے سے ایک اور بھی آج کے دور میں یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ آج کے دور میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقا بلے میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور ماضی میں بھی عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ تھی تو اس وجہ سے بھی کیونکہ اگر ایک شخص کی ایک بیوی ہے تو باقی کرڑوں عورتیں جن کا رشتہ نہیں ہو پاتا تو ایسی صورتحال میں عورت کے پاس تو ہی موقع ہیں ایک یہ کہ وہ کسی شخص سے شادی کر لے یا پھر کسی غلط راستے پر لگ جائے تو اس صورتحال سے بھی اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور اس طرح معاشرے میں موجود برائی کو روکا جاسکتا ہے۔ عورتوں کی تعداد فطرتاً زیادہ ہے۔

معاشرے میں موجود عریانی اور فحاشی کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے شادی کے نظام کو سستا اور عام بنانے کی ضرورت ہے اور پھر شادی پر ہونے والے اخراجات اور رسم و رواج کو ختم کرکے ہی ایک اسلامی اور پاک صاف معاشرے کا قیام ممکن ہے

Saturday, November 23, 2013

نیک کام کرنے سے



پٹھانوں کی تاریخ دہ پښتون تاريخ









نظر بد دور کرنے کا وظیفہ


Wednesday, November 20, 2013

نادان منشی





Monday, November 18, 2013

نادان چوہا


زندگی کے





زندگی کے ہر موڑ پر صلح کرنا سیکھو کیونکہ جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے اکڑنا تو مردے کی پہچان ہوتی ہے

Saturday, November 16, 2013

ایک عقل مند آدمی کسی جنگ


اونٹ کا قیصہ
ایک عقل مند آدمی کسی جنگل میں پھر رہا تھا۔
اس نے دو آدمیوں کو دیکھا جو یہاں وہاں کچھ ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔اس آدمی نے ا ±ن سے پوچھا ”کیا تمہارا اونٹ گم ہو گیا ہے ؟
“ایک آدمی نے جواب دیا ”ہاں بھائی !ہمارا اونٹ گم ہوگیا ہے۔ہم بہت دیر سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں مگر نہ جانے وہ کہاں چلا گیا ہے۔کیا تمہیں اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے ؟“اس آدمی نے پوچھا۔”کیا تمہارے اونٹ کی ایک آنکھ پھوٹی ہوئی تھی ؟“دونوں آدمی فوراً بولے۔”ہاں ،ہاں !“آدمی نے پوچھا ”کیا وہ بائیں پاو ¿ں سے لنگڑا ہے ؟“
آدمی بولے ”ہاں وہ لنگڑا ہے۔“آدمی نے پھر سے سوال کیا ”کیا اس کا کوئی دانت بھی ٹوٹا ہوا ہے ؟“آدمیوں نے کہا ”ہاں ....اس کا ایک دانت ٹوٹا ہوا ہے۔“اس آدمی نے آخر میں پوچھا ”کیا اس پر ایک طرف شہد اور دوسری طرف گیہوں لدے ہوئے ہیں ؟“دونوں آدمیوں نے جواب دیا ”ہاں !بالکل ٹھیک۔وہی ہمارا اونٹ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ تم نے اسے دیکھا ہے۔اب بتاو ¿ کہ وہ کہاں ہے ؟“
عقل مند آدمی نے جواب دیا ”میں نے کوئی اونٹ نہیں دیکھا۔
“اس کا یہ جواب سن کر وہ دونوں آدمی اس سے لڑنے لگے۔”کم بخت چور ....تم نے ضرور ہمارا اونٹ دیکھا ہے ورنہ تمہیں ان ساری نشانیوں کا کیسے پتہ چلا۔ بتاو ¿ وہ کہاں ہے ؟“
وہ آدمی قسم کھا کر کہنے لگا ”بھائیو! میں نے واقعی تمہارا اونٹ نہیں دیکھا۔“اونٹ والے یہ سن کر یقین نہ کر پائے اور اس آدمی کو پکڑ کر کوتوال کے پاس لے گئے۔ کوتوال نے پورا واقعہ سنا اور پھر اس آدمی سے پوچھا ”اگر تم نے اونٹ دیکھا نہیں تو تمہیں اس کے متعلق اتنی باتیں کیسے معلوم ہوئیں ؟“عقل مند آدمی نے جواب دیا ”جناب !ریت میں اونٹ کے پاو ¿ں کے نشان تھے،جن میں سے ایک نشان بہت ہلکا تھا ،اس لئے میں سمجھ گیا کہ وہ لنگڑاتا ہے۔چونکہ اونٹ نے صرف ایک طرف کی گھاس کھائی ہوئی تھی اس لئے مجھے پتہ چل گیا کہ اس کی ایک آنکھ پھوٹی ہوئی ہے۔گھاس بیچ میں سے جگہ جگہ چھوٹی ہوئی تھی،اس سے مجھے اونٹ کے ٹوٹے ہوئے دانت کا پتہ چل گیا۔
اس راستے میں کچھ دور تک گیہوں گرے ہوئے تھے اور ایک طرف مکھیاں بھی اکٹھی ہو رہی تھیں،جس سے مجھے معلوم ہوا کہ اونٹ پر ایک طرف گیہوں اور دوسری طرف شہدلدا ہوا ہے۔“کوتوال اس شخص کی عقل مندی سے بہت خوش ہوا اور اسے عزت سے رہا کردیا۔اونٹ والوں نے بھی اس سے معافی مانگی اور چلے گئے۔سچ ہے کہ انسان عقل مند ہو تو بہت سی باتوں کا بغیر دیکھے پتہ چلا سکتا ہے

Thursday, October 31, 2013

شیر اور بکری









شیر اور بکری

کہتے ہیں گئے زمانے میں ایک ملک ایسا بھی تھا جہا ں اَمن و اَمان کا یہ عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیا کرتے تھے۔ یہ بات تو ٹھیک ہے مگر یہ قصہ دراصل اَدھورا ہے۔

اس کہاوت کا پورا قصہ در اصل کچھ یوں تھا کہ شیر روزکسی ایک بکری کو ساتھ لے کر گھاٹ پر پانی پینے جاتا تھا۔ اخلاقاً پہلے بکری کو پانی پینے کی دعوت دیتا اور جب بکری بھر پیٹ پانی پی لیتی تو پھر شیر پانی پیتا۔ بکری تو اپنی پیاس بجھانے کے لیےپانی پیتی تھی مگر شیر نے سن رکھا تھا کہ کھانے سے پہلے پانی پینا صحت کے لیے انتہائی مفید ہے سو وہ بھی جی بھر کر پانی پی لیتا۔ یہاں تک بات تو کہاوت کے عین مطابق ہے مگر پھر کچھ یوں ہوتا کہ شیرپانی پینے کے بعد بکری کے نرخرے پر اپنے دانت گڑا دیتا تھا اور اُس وقت تک نہ چھوڑتا تھا جب تک کہ اُس بے چاری کی جان جسم نہ چھوڑ جاتی تھی۔ پھر شیر مزے لےلے کر بکری کا گوشت تناول کیا کرتا تھا۔ بکری کو مارنے سے پہلے پانی پلانے کام وہ صرف اپنی رحم دلی کے باعث کرتا تھا تا کہ بے چاری پیاسی نہ مر جائے۔ یہ تھا مکمل قصّہ جس پریار لوگوں نے ایک پریوں کی داستان اِخترا کر لی اور یوں بھولے بھالےلوگوں کو ایک سراب کے پیچھے دوڑنے کی آس لگوا دی۔

ہمارے نزدیک تو وہ ایک ظالمانہ دور تھا۔ ظاہر ہے زمانہ جاہلیت میں اِس کے علاوہ کچھ اور سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہاں آج کے دورکی بات ہی کچھ اور ہے۔ رحم دلی کا زمانہ تو آج ہے جس کی اعلیٰ ترین مثال ہم پاکستانیوں نے قائم کی ہے۔ اب ہم مرنے سے پہلے تو شائد کم مگر ذبحہ کرنے کے بعد جانور کو اُس کے نرخرے کے ذریعہ پمپ لگا کرکم و بیش 10 سے 15 لیٹر پانی پلاتے ہیں جو رحم دلی کی ایک ایسی روشن مثال ہے جو دنیا نے اس پہلےنہ کبھی دیکھی اورنہ سنی ہو گی۔

مردہ جانور کو پانی پلانے میں بڑے راز پہناں ہیں۔ اوّل تو یہ صدفیصد کارِ ثواب ہے۔ ظاہر ہے اگر مرنے سے پہلے پانی پلانا نیکی ہے تومرنے کے بعد ایک بار پھر معصوم جانور کو حلق تک پانی پلانا یقیناً اُس سے بڑی نیکی کے زمرے میں آتا ہو گا۔ کچھ مذہبی لوگ اِسے غالباًبدعت سے تعبیر کرتے ہیں مگراُن کی آخر اِس دو ر میں سنتا کون ہے؟ کچھ لوگ تو کہتے یہ بدعت احس ہے!

دوئم یہ کہ ذبیحہ کواس طرح پانی پلانے سے گوشت میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے ۔ یعنی ہرایک کلو گوشت میں تقریباً ایک پاؤ پانی بھر جاتا ہے ۔ اس طرح گوشت نسبتاً کم قیمت پر غریب عوام کو نصیب ہو پاتا ہے۔ اور یوں گرانی کے اس دور میں جہاں جسم وجاں کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے عام انسان کو روزانہ جانے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں ایک چیز تو تھوڑی سستی مل جاتی ہے۔ اب خود ہی سوچیں اگر گوشت میں سے 25 فیصد پانی نکل جائے تو گوشت پچیس فیصد مہنگا نہ ہو جائے گا؟ اور جس سے عام انسان کی کمر مزید نہ ٹوٹ جائے گی؟

سوئم فائدہ یہ کہ اس طرح کاگوشت پکاتے وقت اِس میں اوپر سےپانی ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔ اس لیے جن گھروں میں پانی نہیں آتا وہاں یہ گوشت بغیرا اِضافی پانی کی جھنجٹ کے پکایا جا سکتا ہے۔

چہارم یہ کہ اس طرح کا گوشت پکنے کے دوران خود بخود سُکڑکر کم ہو جاتا ہے اور یوں غریب عوام کو زیادہ گوشت کھانے سے بچا لیا جاتا ہے۔ اب خود سوچیے انسان زیادہ گوشت کھائے گا تو بیمار بھی زیادہ ہوگا اور یوں ڈاکٹر کا خرچ بھی بڑھے گا اس لیے آج کل کے اس پُر آشوب دور میں ہمارے یہاں رحم دلی کی جو مثالیں قائم ہو رہی ہیں اُن کو ہمیں دل کھول کر سراہنا چاہئے اور ساتھ ہی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ تو کچھ بھی نہیں حالات اور بھی خراب ہو سکتے تھے!
 شیر اور بکری

Wednesday, October 30, 2013

صدقہ کے فوائد

صدقہ کے فوائد
صدقہ جب انسان اپنے ہاتھ سے نکالتا ہے تو صدقہ اس وقت 5 جملے کہتا ہے
 میں فانی مال تھا تو نے مجھے بقا دی۔
میں تیرا دشمن تھا اب تو نے مجھے اپنا دوست بنالیا
آج سے پہلے تو میری حفاظت کرتا تھا اب میں تیری حفاظت کرونگا
میں حقیر تھا تونے مجھے عظیم بنالیا
پہلے میں ترے ہاتھ میں تھا اب میں خدا کے ہاتھ میں ہوں

Tuesday, October 29, 2013

ظلم کی انتہا

اٹھو لوگوں اٹھو تم لوگ اسے کیسے پسند کروگے،کیسے برداشت کروگے یہ سب۔ جو کچھ بھی اج کے دور میں مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے جو ہمارے بچوں جوانوں بوڑھوں کے ساتھ ہورہا ہے۔دنیا کی کوئی بھی تنظیم اس معاملے پر کوئی بات نہی کر پا رہی۔اگ لگی ہے تو صرف اور صرف مسلمان ممالکوں میں۔سب کے سب تنظیمیں خاموش بھیٹی ہے۔اقوام بتحدہ ایک نمبر کا غنڈہ تنظیم ہے

یہ تصویر فلسطین کی ہے

یہ دیکھیں اسرایئل نے ہمارے بچے کیساتھ کیا کیا ہے

 

back to topBack to top All rights reserved copy Right© 2013 Khyber,Urdu powerd by AWK KHAN