sasatsafhatanz
kahaniataleemkitabiepoet and poetrysms

Sunday, December 1, 2013

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی بیٹی فرماتی

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی بیٹی فرماتی ہیں کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ [ اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کر و ۔ ( الحجرات ۔ 2 )]
تو میرے والد گھر کے دروازے بند کرکے اندر بیٹھ گئے اور رونے لگے جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ پایا تو بلا کر گھر بیٹھ رہنے کی وجہ پوچھی انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری آواز [ طبعی طورپر ] بلند ہے میں ڈرتا ہوں کہ میرے اعمال ضائع نہ ہو جائیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان میں سے نہیں ہیں بلکہ آپ خیر والی زندگی جئیں گے اور خیر والی موت مریں گے ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ : [ کہ اللہ تعالی کسی اترانے والے خودپسند کو پسند نہیں کرتا ۔ ( لقمان ۔ 18 ) ]
تو میرے والد نے پھر دروازہ بند کر دیا گھر میں بیٹھ گئے اور روتے رہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہ پایا تو انہیں بلوایا اور وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تو خوبصورتی کو پسند کر تا ہوں اور اپنی قوم کی قیادت کو بھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان میں سے نہیں [ جن کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے ] بلکہ آپ تو بڑی پسندیدہ زندگی گزاریں گے اور شہادت کی موت پاکر جنت میں داخل ہوں گے۔ جنگ یمامہ کے دن جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں نے مسیلمہ کذاب پر حملہ کیا تو ابتداء میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اس وقت حضرت ثابت بن قیس اور حضرت سالم رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو اس طرح نہیں لڑتے تھے۔ پھر دونوں حضرات نے اپنے لیے ایک ایک گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہوکر ڈت کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے اس دن حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک قیمتی زرہ پہن رکھی تھی ان کی شہادت کے بعد ایک مسلمان نے وہ زرہ اٹھالی ۔ اگلے دن ایک مسلمان نے خواب میں دیکھاکہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ اسے فرما رہے ہیں میں تمھیں ایک وصیت کر رہا ہوں تم اسے خیال سمجھ کر ضائع نہ کر دینا میں جب کل شہید ہوا تو ایک مسلمان میرے پاس سے گزرا اور اس نے میری زرہ اٹھالی وہ شخص لوگوں میں سب سے دور جگہ پر رہتا ہے اور اس کے خیمے کے پاس ایک گھوڑا رسی میں بندھا ہوا کود رہا ہے اور اس نے میری زرہ کے اوپر ایک بڑی ہانڈی رکھ دی ہے اور اس ہانڈی کے اوپر اونٹ کا کجاوہ رکھا ہوا ہے تم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ کسی کو بھجوا کر میری زرہ اس شخص سے لے لیں پھر جب تم مدینہ منورہ جانا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ [ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ] سے کہنا کہ میرے زمے اتنا اتنا قرضہ ہے اور میرے فلاں فلاں غلام آزاد ہیں [ پھر اس خواب دیکھنے والے کو فرمایا ] اور تم اسے جھوٹا خواب سمجھ کر بھلا مت دینا ۔ چنانچہ [ صبح ] وہ شخص حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان تک پیغام پہنچایا تو انہوں نے آدمی بھیج کر زرہ وصول فرمالی ۔ پھر مدینہ پہنچ کر اس شخص نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پورا خواب سنایا تو انہوں نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی وصیت کو جاری فرما دیا ۔ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے مرنے کے بعد وصیت کی ہو اور اس کی وصیت کو پورا کیا گیا ہو سوائے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے ۔ ( المستدرک )

یہ تحریر فیسبک سے لی گئی ہے
                                  ایڈمن محمد فاران خان             

دین اسلام چار شادیوں کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟

دین اسلام چار شادیوں کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟

اگر تمھیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو ِدو دو تین تین چار چار سے ۔لیکن اگر تمھیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہوتو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی ۔۔۔یہ ذیادہ قریب ہے۔(ایسا کرنے سے ناانصافی اور(ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔۔۔

اس آیت کی تفسیر حضرت عائشہ سے اس طرح مروی ہے۔۔کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کر لیتالیکن اس کو دوسری عورتوں کی طرح ان کا پورا حق مہر نہ دیتا۔۔۔اللہ تعالی نے اس اس ظلم سے روکا کہ اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصافنہیں کرسکتےتو تم ان سے نکاح مت کرو۔تمہارے لئے دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا راستہ کھلا ہے۔۔صحیح بخاری ۔کتاب تفسیر۔۔۔۔۔

بلکہ ایک کی بجائے دو سے تین سے حتی کہ چار سے تم نکاح کر سکتے ہو۔۔بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو۔ورنہ ایک سے ہی نکاح کرو
یا اس کی بجائے لونڈی پر گذارا کرو۔۔۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان مرد (اگر وہ ضرورت مند ہو(تو چار عورتیں بیک وقت اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔۔۔۔لیکن اس سے ذیادہ نہیں۔۔۔۔جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی مزید صراحت اور تحدید کردی گئی ہے۔نبی کریم نے جو چار شادیاں
کیں وہ آپ کے خصائص میں سے ہے جس پر امتی کے لئے عمل کرنا جائز نہیں۔۔ابن کثیر۔۔
ایک ہی عورت سے شادی کرنے میں عافیت ہے،۔کیونکہ ایک سے ذیادہ بیویاں رکھنے کی صورت میں انصاف کا اہتمام بہت مشکل ہے۔جس کی طرف قلبی میلان ذیادہ ہوگا۔ضروریات ذندگی کی فراہمی میں ذیادہ توجہ بھی اس کی طرف ہوگی۔۔۔اور دوسری یا تیسری شادی آج کے دور میں وہی کرتا ہے جس کا قلبی میلان پہلی والی سے کم ہوجائے۔۔۔یوں بیویوں کے درمیان وہ انصاف کرنے میں ناکام رہے گا۔۔۔اور اللہ کے ہاں مجرم قرار پائے گا۔۔۔قرآن نے اس حقیقت کو دوسرے مقام پر نہایت بلیغانہ انداذ میں اس طرح بیان فرمایا۔۔۔ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساءولوا حرصتم فلا تمیلو کل المیل فتذروھا کالمعلقہ۔۔اور ہرگز اس بات کی طاقت نہ رکھو گے کہ بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو ۔اگرچہ تم حرص رکھو۔۔۔(اس لئے یہ تو ضرور کرو(کہ ایک طرف نہ جھک جاؤ۔کہ دوسری بیویوں کو بیچ ادھڑ میں لٹکا رکھو۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک سے ذیادہ شادی ناگذیر ضرورت کے بغیر کرنا نامناسب اور نہایت خطرناک ہے۔۔۔
دین اسلام ایک مکمل ظابطہ حیات ہے اور اسلام میں زندگی کے تمام پہلووں کو بڑی تفصیل اور مروجہ انداز سے بیان کرتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں غلطی کی گنجائش تو ہوسکتی ہے یا پھر فرد واحد کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط تو شامل ہوسکتے ہیں پر دین اسلام میں ہر انسان کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے ۔اسی طرح ایک اہم بات کے جس پر دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ دین اسلام مسلمان کو چار شادیاں کرنے کی اجازت کیوں دیتا ہے۔ اس کو کثیرالازدواجی زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دیتا ہے۔

سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ دنیا کا کوئی مذہب یہ نہیں کہتا کہ آپ صرف ایک شادی کریں اس حوالے سے قران پاک کے ارشاد کو دیکھتے ہیں ’’اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے‘‘

قران پاک کے اس ارشاد سے ہم صاف کہہ سکتے ہیں کہ اسلام مسلمان کو چار شادیوں کی اجازت تو دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ احکامات بھی بتا تا ہےکہ اگر انسان کی استطاعت ہے کہ وہ چار بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کر سکتا ہے اور چاروں کو ایک جیسے حقوق دے سکتا ہے تو اسلام اس کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے لیکن اگر انصاف نہیں کرسکتا تو ایک ہی شادی اس کے لیے بہتر ہے ۔

اس حوالے سے ایک اور بھی آج کے دور میں یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ آج کے دور میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقا بلے میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور ماضی میں بھی عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ تھی تو اس وجہ سے بھی کیونکہ اگر ایک شخص کی ایک بیوی ہے تو باقی کرڑوں عورتیں جن کا رشتہ نہیں ہو پاتا تو ایسی صورتحال میں عورت کے پاس تو ہی موقع ہیں ایک یہ کہ وہ کسی شخص سے شادی کر لے یا پھر کسی غلط راستے پر لگ جائے تو اس صورتحال سے بھی اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور اس طرح معاشرے میں موجود برائی کو روکا جاسکتا ہے۔ عورتوں کی تعداد فطرتاً زیادہ ہے۔

معاشرے میں موجود عریانی اور فحاشی کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے شادی کے نظام کو سستا اور عام بنانے کی ضرورت ہے اور پھر شادی پر ہونے والے اخراجات اور رسم و رواج کو ختم کرکے ہی ایک اسلامی اور پاک صاف معاشرے کا قیام ممکن ہے

Saturday, November 23, 2013

نیک کام کرنے سے



نظر بد دور کرنے کا وظیفہ


Monday, November 18, 2013

زندگی کے





زندگی کے ہر موڑ پر صلح کرنا سیکھو کیونکہ جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے اکڑنا تو مردے کی پہچان ہوتی ہے

Wednesday, October 30, 2013

صدقہ کے فوائد

صدقہ کے فوائد
صدقہ جب انسان اپنے ہاتھ سے نکالتا ہے تو صدقہ اس وقت 5 جملے کہتا ہے
 میں فانی مال تھا تو نے مجھے بقا دی۔
میں تیرا دشمن تھا اب تو نے مجھے اپنا دوست بنالیا
آج سے پہلے تو میری حفاظت کرتا تھا اب میں تیری حفاظت کرونگا
میں حقیر تھا تونے مجھے عظیم بنالیا
پہلے میں ترے ہاتھ میں تھا اب میں خدا کے ہاتھ میں ہوں

 

back to topBack to top All rights reserved copy Right© 2013 Khyber,Urdu powerd by AWK KHAN